ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہریوں کے انخلاء کیلئے یوکرین میں محدود جنگ بندی۔ مذاکرات بحال، سومی شہر میں 700ہندوستانی طلبہ جنگ کے 12 دن بعد بھی حکومت ہند کی مدد کے منتظر

شہریوں کے انخلاء کیلئے یوکرین میں محدود جنگ بندی۔ مذاکرات بحال، سومی شہر میں 700ہندوستانی طلبہ جنگ کے 12 دن بعد بھی حکومت ہند کی مدد کے منتظر

Tue, 08 Mar 2022 11:45:37    S.O. News Service

 مودی کی پوتن سے گفتگو، زیلنسکی سے براہ راست بات چیت کا مشورہ دیا

نئی دہلی، 8 ؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) یوکرین پر روسی حملے کے 12 ویں دن یہاں پھنسے ہوئے شہریوں  کے بحفاظت انخلاء کیلئے روس نے پیر کو 4 شہروں  میں محدود جنگ بندی کا اعلان کیا ۔اس دوران دونوں  ملکوں  کے  درمیان   بات چیت کا سلسلہ بھی بحال ہوگیا۔جس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے، بیلاروس میں روس اور یوکرین کے نمائندے تیسرے مرحلے کی مذاکرات کررہے ہیں۔ 

  مذاکرات کا یہ سلسلہ سومی، کیف ، خارکیف اور ماریوپول  میں پھنسے ہوئے شہریوں کے انخلاء کیلئے روس کی جانب سے محدود جنگ بندی کے اعلان کے بعد بحال ہوا ہے۔اس سے قبل شہریوں  کے انخلاء کیلئے جنگ بندی کی 2 کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔  روسی وزارت خارجہ کے مطابق  جنگ  بندی کا فیصلہ شہریوں کوبحفاظت نکلنے کا موقع دینے کیلئے انسانی بنیادوں پر راہداری   کے قیام کے مقصد سے کیاگیاہے۔ 

  اس بیچ وزیراعظم مودی نے پیر کو روس کےصدر ولادیمیر پوتن  سے فون پر گفتگو کی اور انہیں   یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی  سے براہ  راست  گفتگو کرنے کا مشورہ دیا۔اس دوران انہوں  نے یوکرین  کے شہر سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبہ کے بحفاظت انخلاء کا معاملہ بھی پوتن کے ساتھ اٹھایا۔ ہندوستانی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق پوتن نے وزیر اعظم کو سومی میں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے میں ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی  ۔    سرکاری ذرائع  کے مطابق پوتن نے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کی یقین دہانی تب کرائی جب  مودی نے فون پر بات چیت کے دوران یوکرین کے سومی میں پھنسے ہندوستانیوں کو جلد از جلد نکالنے کی درخواست کی ۔ روس کے صدر اور  مودی کے درمیان50 منٹ  تک بات چیت ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ ’’دونوں لیڈروں نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔  پوتن نے   مودی کو یوکرین اور روس کے مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا ۔ ‘‘   ا س بیچ جنگ کو12 دن گزر جانے کے باوجود سومی شہر میں پھنسے ہوئے 700 ہندوستانی طلبہ کو حکومت ہند کی جانب سے  مدد کاانتظار  ہے۔ پوتن سے گفتگو کے بعد ان  کے انخلاء کی امید بڑھ گئی ہے۔ 

 اس بیچ یوکرین کی مسلح افواج کے سربراہ نے  پیر کو اپنے تازہ بلیٹن میں کہا ہے کہ روس کی فوج دارالحکومت کیٖف پر تازہ حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ محکمہ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں کا مقصد کیٖف کے مضافات میں واقع۲؍شہروں ارپن اور بوشا  پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ بیان کے مطابق روس کی مسلح افواج برووسکی اور بوریسپل اضلاع سے ہوتے ہوئے کیٖف کے مشرقی مضافات تک پہنچ کر دفاعی حکمت عملی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

  پیر کو روسی افواج کے حملے میں خارکیف میں  کم از کم13 عام شہریوں کے  ہلاک ہونے کا دعویٰ  کیاگیاہے۔ یوکرینی ذرائع سے جاری ہونے والی خبروں کے مطابق حملہ ایک بریڈ فیکٹری میں کیاگیا جس کے نتیجے میں  بڑی تعداد میں ملازم ہلاک ہوئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹوں میں 13شہریوں کی اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔   بتایا جارہاہے کہ جس وقت فضائی حملہ کیاگیا اس وقت فیکٹری میں  کم از کم 30مزدور موجود تھے۔5 مزدوروں کو ملبے سے بحفاظت نکالاگیاہے۔ 

 یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے  روس پر درآمدات اور برآمدات کا بائیکاٹ کرنے  کے لئے پیر کو اس پر نئی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا۔ اسپوتنک نے  زیلنسکی کے ویڈیو خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’اگر جارحیت جاری رہتی ہے اور روس یوکرین کے خلاف حملے بند نہیں کرتا تو نئی پابندیوں کی ضرورت ہے۔ نئی پابندیاں امن کے لئے جنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے اہم  اقدامات ہیں۔‘‘


Share: